articles

دور حاضر کی عورت اپنے محافظوں سے انصاف کی منتظر

عورت گوشت پوست کا وہ طاقتور وجود ہے جو نہ صرف انسانی نسل کی  بقاء کی ضمانت ہے بلکے عورت ماں ہونے کیساتھ ساتھ انسان کی پہلی استاد اور پہلی درسگاہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ عورت کی تخلیق خالق کائنات نے جسم کے اس حصے سی کی ہے جہاں دل کا راج ہے۔ عورت کائنات کی بلاشبہ بہترین تخلیق میں سے ایک ہے بقول اقبال وجود زن سے ہے کائنات میں رونق

کائنات کی خوبصورت تخلیق کیساتھ زمین کے خدا انصاف نہ کرسکے پھر وہ چاھے مشرق ہو یا مغرب، عورت کا عورت ہونا گالی تصور ہوتا ہے یا کم از کم عورت ہونا بڑی معیوب بات سمجھی جاتی ہے، کچھ مکتب اسکول کے نزدیک عورت کا مقصد جسمانی تسکین اور افزائش نسل سے بڑھ کر کچھ نہیں۔

مغرب جو انسانی حقوق کا علمبرداراور خاص کر آذادی نسواں کا منبہ و گڑ مانا جاتا ہے عورتوں کی عصمت دری کے معاملے میں ابتدائ دس ممالک انڈیا کو چھوڑ کر سب کے سب مغربی ریاستیں ہی ہیں۔

مشرق نے بھی کچھ کم نہ کیا مشرقی شہزادوں،وارثوں،محافظوں نے عورت کو چار دیواری،عزت اور چادر کا تحفظ کینام پر ایسے ہوشربا جرائم سر انجام دیۓ کہ نہ صرف انسانیت بلکے دین بھی حیران و پریشان ہے،عورت کو جائیداد میں حصہ نہ دینے سے لیکر غیرت کینام پر قتل، کاروکاری،بدل صلح،قرآن سے نکاح، غیر آئینی و غیر شرعی جرگے،پسند کی شادی پہ قتل،طورطورہ،آنر کلنگ، سیاہ کاری، کالا کالی اور خدا معلوم اس جیسے اور کتنی  غیر انسانی روایات جو کسی طور بھی نہ ہی انسانیت کا شیوہ ہیں اور نہ کسی مزہب کی تعلیمات،ہمارے معاشرے میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔

ہمارا ملک خطہ زمین پر چونکہ آج سےتقریباً ٧٠ سال پہلے  معرض وجود میں آچکا مگر ہمارا معاشرہ مجموعی اعتبار سے ٧ سال کا بھی نہیں جسے شعور،سمجھ،معاملہ فہمی،آگہی اور تمیز نہیں۔ تمیز(صحیح و غلط کی نہ صرف پہچان بلکے صحیح پر عمل پیرا ہونا) ہی نہیں کہ روایات،رسم و رواج کی تلوار کے برعکس دین کی مضبوط ڈھال جو کہ عافیت و ہدایت سے لبریز اور سب سے بڑھ کر انسانیت کی بقا سمیٹے ہوۓ ہے اس سے کوسوں دور اور ناواقف ہیں۔

پیدا ہونا،زندگی گزارنا اور مر جانا کسی طور بھی معاشرتی طرز عمل نہیں، علم حاصل کرنا اور حاصل کردہ علم پہ عمل کرنا بڑے دل گردے کا کام ہے، ہمارے ہاں معاشرتی برائیوں کی سب سے بڑی وجہہ علم و عمل کا فقدان ہے،جب شعور ہی نہیں تو چاھے پیر کو خدا کا درجہ دیدیا جاۓ یا پھر پتھر کو پوجا جاۓ کوئ اچنبھے کیبات نہیں، بدلنے والوں نے نظریہ توحید بدل ڈالا تو عورت کے معاملے میں ڈرنا محض دیوانے کا خواب ہے۔

حکمرانوں، وڈیروں، جاگیرداروں کو مورود الزام ٹھرانا کسی حد تک تو عقل کو مطمئن کرسکتا ہے مگر علم و ہدایت کیلیۓ ابھرنے والے احساس و جزبے کسی فرعون،نمرود اور شمر سے بھی نہیں ڈرتے اور نہ ہی دبتے ہیں ہاں خود کو خیر کی خیر و روشنی سے روشناس نہ کروانا اگر بھلائ  سمجھی جاۓ تو الگ بات ہے۔

“میں عورت ہوں” میں بیٹی ہوں تو فاطمہ الزہرہؓ ہوں جنت میں عورتوں کی سردار۔ میں بیوی ہوں تو دنیا مجھے خدیجہ الکبریؓ کینام سے جانتی ہے جو نبی المحبوب،ہدایت ولائیت کی آخری مہر کی سبسے پہلی گواہ اور سر تسلیم خم کرنیوالی میں(عورت) ہوں۔ بہن ہوں تو صفیہؓ، جن کے لیۓ نبیﷺ دو جہاں ممبر سے اٹھ کر اپنی چادر احترام و تعظیم میں بچھا دیتے تھے محترم بہن کی مہمان نوازی کی خاطر۔ ماں ہوں تو آمنہؓ ہوں جنکی ذات کا حصہ دنیاۓ کفر اور رھتی دنیا میں نور،توحید،دین،علم و عمل کا پیکر ہے۔ میرا مقام، میری عزت، میری تعظیم میرے رب نے مجھے عطا کی ہے۔ میرا وارث میرا رب میرا معبود ہے۔

وہی رب جو عورت ذات  کو تعظیم دینے والا ہے اسی رب نے اے زمین کے خداؤں تم پر، تم سب پر عورتوں کے معاملے میں سب سے ذیادہ رب سے ڈرنے کا حکم دیا ہے۔ تم(مرد) محافظ ہو، تم پر ذمہ داری عائد کی گئ کیونکہ تم عورتوں کے سربراہ ہو پھر کیونکر عورت کے معاملے میں دین،عقل اور میانہ روی سے کام نہیں لیتے؟ کیا بڑائ  ظلم کرنے میں ہے؟کیا یہ غیرت ہے کہ جرگے کہ کہنے پر١٥ سالہ عنبرین کو جلا دیا جاۓ، قتل کردیا جاۓ؟

میں بحیثیت عورت اپنی تکلیف،خوشی،غم غرض زندگی کے ہرمعاملے میں اپنے محافظوں کےساتھ کی محتاج ہوں، تو کیوں نہیں میری ذات کے معاملے میں اللہ ہ رسولۖ کی تعلیمات کی روشنی میں فیصلے صادر ہوتے؟
کیوں مجھے انسانیت کی دوسری اکائ بھی تصور نہیں کیا جاتا؟ جبکے مجھے بنانے،بھیجنے والے نے مجھے انسان کا درجہ دینے کیساتھ ساتھ میری تعظیم،حقوق و فرائض کا تعین کرکے دنیا میں بھیجا ہے۔

کیوں؟

نوٹ:اس بلاگ کا مقصد جنس مخالف کی دلآزاری نہیں نہ ہی انہیں ظالم ثابت کرنیکی کوشش کی گئ، بس عورتوں کے معاملے میں عقل اور رحم کیساتھ پیش آنے کی گزارش ہے۔ اور معاشرے کے فرسودہ رسم و رواج کیطرف توجہ دلاؤ نوٹس  ہےجو ناسور بن کرنہ صرف معاشرے کا چہرہ مسخ کیے ہوۓ ہیں بلکہ غیر اسلامی اور غیر انسانی اعمال و فعل ہیں۔

جزاک اللہ خیر

Share
Previous post

When you lose a mother

Gwadar Express
Next post

Gwadar Express the Theater Play

No Comment

Leave a reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Huma Mehmood

Huma Mehmood