articles

سوشل میڈیا اور ہمارا کردار

اکستان میں انٹرنیٹ کی تاریخ اتنی پرانی نہیں۔ 90ء کی دہائ کے اوائل میں انٹرنیٹ جیسی بلا نے پاکستان میں قدم رکھا اور دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان کا پڑھا لکھا اسکی طرف مائل ہوا اور 2012ء تک پاکستانی آبادی کا تقریباََ 16٪حصہ جکی تعداد3کروڑ کے لگ بھگ ہےاسکے جادو سے خود کو نہ بچا سکا اور وقت گزرنے کیساتھ انٹرنیٹ یورز کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے جس میں ناخواندہ آبادی کا بھی اک بڑا حصہ شامل ہے۔

سوشل میڈیا ایپز واۂبر،فیس بک،ٹویٹر،وٹس ایپ،انسٹاگرام و دیگر ایپز ملک میں سوشل نیٹ ورکنگ،اظہار راۓ،معلومات عامہ تک رسائ،ملک و بیرون ملک رابطے اور معلومات کی تیز تر رسائ کیلیۓ استعمال ہوتی ہیں۔

وطن عزیز میں کسی کو پڑھنا لکھنا آتا ہو یا نہیں مگر اسکی اٹرنیٹ تک رسائ ممکن و آسان ہے۔ہم اس معاشرے کے باسی ہیں جہاں شادی اور کاروبار کو تعلیم پر ترجیح دی جاتی ہے۔

بس یہی وجہ ہے کہ مختلف سوچ،افکار،خیال،ذہن کے لوگ سوشل میڈیا کے یوزرز ہیں۔ بحیثیت قوم ہم سوشل میڈیا کو نہ صرف اپنی جاگیر تصور کرتے ہیں ساتھ میں مرضی اور مفاد کیخلاف بات سننا اور بات کہنا بھی ہمارے ایجنڈے کا حصہ نہیں۔

ہم میں سے ہر ایک اس راز سے باخوبی واقف ہے کہ مغرب نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی سوسائٹی اور معاشرے کے کردار  کو نہ صرف اجاگر کیا بلکے مغرب میں سوشل میڈیا معلومات اور اظہار راۓ کیلیۓ مستند ذریعہ سمجھا اور مانا جاتا ہے۔

چونکہ پاکستان میں لٹریسی ریٹ ویسے تو 58٪ تک جاپہنچا ہے مگر ھم عوام مجموعی اعتبار سے عدم برداشت اور کند ذہنی کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔لوگ ایسا جان بوجھ کر نہیں کرتے اس میں بہت بڑا کردار میڈیا، سیاسی وابستگیاں اور دین کینام پہ ایجاد شدہ مختلف فرقوں کا بھی ہاتھ ہے۔

ہر شخص اپنے مسلک، سیاسی پارٹی اور اپنی سوچ سے ہم آہنگی رکھنے والے افراد کو ہی فالو اور برداشت کرتا ہے اور انہی کو بشمول خود کے عقل کی کلی و دائمی رسید سمجھتا ہے۔ اس بات سے انکار نہیں کہ ہم سب اپنی سوچ کے غلام ہیں مگر معاشرے کی اصلاح نہ صرف ذاتی پسند اور سوچ کی قربانی مانگتی ہے بلکے ساتھ ساتھ ہمارا عمل ہی ہماری سوچ کا خماز ہونا چاھیۓ۔

کیا ہوگا اگر ہم اپنی طبیعت کیخلاف بات،سوچ اور نظریے کو خندہ پیشانی اور اس نقطے سے سنیں اور برداشت کریں کہ شاید اس میں ہماری اصلاح کا پہلو مخفی ہو۔

ہم سب کے پاس اختیار ہے اپنی پسند و ناپسند کے مطابق زندگی گزارنے کا مگر ہم انفرادی و اجتماعی اعتبار سے معاشرے کا ہی حصہ ہیں اور معاشرے کی اصلاح کی ذمہداری ہم سب پرعائد ہوتی ہے اور معاشرے میں رہنے کا تقاضا ہے کہ ہم برداشت،صبروتحمل، اطمینان اور سکون سے مخالف بات سنیں۔

انٹرنیٹ کے ذریعے ہم چاہیں تو ہم آہنگی،ملی و قومی يگانگت کو پروموٹ کریں یا دشمن کےآلہ کار بنیں،ہماری آپس کی رنجش کا فائدہ ہمارے دشمن کو ہی ہوتاہے۔ اختیار ہمارے پاس ہے سو سوچ سمجھکر اپنے الفاظ کا انتخاب کریں۔ ہمارے الفاظ نہ صرف ہماری سوچ کے عکاس ہیں بلکے معاشرے کی کردار سازی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں

Share
Previous post

A Moment Of Realization

Next post

Beauty is Truth, Truth Beauty.

No Comment

Leave a reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Huma Mehmood

Huma Mehmood