articles

ماہ صیام اور دین آن سیل

اسلامی گیارہ مہینوں کے نام عربوں نے رکھے صرف رمضان ایسا مہینہ ہے جسکا نام اللہ نے خود رکھا۔ روایت میں ہے رمضان کا زکر رب کائنات نے قرآن کی تلاوت کرکے اس وقت فرما دیا تھا جب زمین و آسمان بھی تخلیق نہیں ہوۓ تھے

قرآن میں ہے

رمضان وہ مہینہ ہے، جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے، جو راہ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں لہٰذا اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے، اُس کو لازم ہے کہ اِس پورے مہینے کے روزے رکھے. البقره ١٨٥

ہر موسم اپنے اندر ایک خاصیت سمیٹے ہوۓ ہے اور رمضان اللہ کو لینے کا سیزن آگیا۔ رمضان میں جبرائیل سرور کونینۖ کیساتھ مل کر قرآن کا دورہ کرتے تھے،رمضان قرآن کا مہینہ ہے، رمضان اللہ کو راضی کرنے کا مہینہ ہے،رمضان پچھلے پورے سال کے گناہ،خطاؤں،غلطیوں کو بخشوانے کا مہینہ ہے۔

نماز سے محبت الہی اور روزے سےعشق الہ پیدا ہوتا ہے، بھوک پیاس عشق کی دیوانگی کیطرف لیجاتی ہے اور دیوانگی مقام فنا کی منزل اور روزہ بھوک پیاس کو اللہ کے مقرب کیلیۓ برداشت کرنے کا نام ہے

ماہ رمضان کی جتنی اہمیت،افادیت اور نور قرآن،احادیث، حیات رسولۖ، صحابہؓ،خلفاۓ راشدین، تابعین و تابعین کے طرز سوچ اور عمل سے واضح ہے ان کو یہاں قوٹ کرنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ غرضیکہ رمضان یں شیاطین کا پابند سلاسل ہونا، نیکیوں کیطرف رغبت، لوگوں کیساتھ حسن سلوک، دستر خوان کا وسیع ہونا،احساس نیکی رمضان کی بیش بہا خوبیوں اور برکتوں میں سے چند ایک ہیں۔

ایک بار پھر ماہ رمضان سایہ فگن ہے، اور اپنی تمام تر خوبصورتی،رعنائیوں اور محسور کن اثرات،خوشی اور قرب الہی کی چاہ سے بھرپور و لبریزیہ ماہ چیخ چیخ کر ہم سے کہہ رہا ہے کہ اپنی بخشش و مغفرت سمیٹ لو

مگر ہم اور ہمارے معاشرے میں ماہ رمضان کی استقبال اور ماہ رمضان کی برکت و خیر جس بھونڈے، مادہ پرستی اور شہوت دنیا داری کو تسکین مبہم پہچانے کیلیۓ کی جارہی ہے اسکی مثال زمانہ جاہلیت میں بھی شاید نہ ملتی ہو۔

ہم معاشرتی زبوں حالی کے اس گراوٹ کا شکار ہیں جہاں ہم ملک،غیرت،دینی حمیت، رشتوں کا تقدس اپنے ہاتھوں سے خوشی خوشی پامال کرتے ہیں اور یقین جانو پل بھر کو بھی پچھتاوہ نہیں ہوتا اور ضمیر، صاحب وہ کس کھیت کی مولی ہے؟ جیسا حال ہو چکا سو خاندانی نظام کی تباہی، ملکی غیرت کو بیچنے،رشتوں کیساتھ حیوانگی برتنے کے بعد اب بچا تھا دین جسے بھی ہم نے سیل پر لگا دیا۔

رمضان محیط تو محض 30 ایام پر ہے مگر ہمارے نام نہاد میڈیا ہاؤسز اس ایک ماہ کے توسط سے اشتہارات کی مد میں کتنے ہی کروڑ روپے سمیٹ لیتے ہیں۔

رمضان سحری و افطاری ٹرانسمیشن میں اینکر پرسنز کا تعلق موسٹلی شوبز سے ہوتا ہے وہی شوبز کے چمکتے ستارے جو ریمپ فلور پرننگے سر،سلیو لیس شرٹس غرضیکہ جسم کی نمائش میں پیش پیش ہوتے ہیں اور اس دوڑ میں مرد و زن دونوں یکساں شامل ہیں۔ رمضان ٹرانسمیشن کے ہوسٹ بناۓ جاتے ہیں۔
دین: الحفیظ الامان

اگر یہ کہا جاۓ کہ ہم فتنے کے دور میں جی رہے ہیں تو کوئ شک و شہبے کی بات نہیں۔ نبی انسانیت محمدۖ نے آخری دور کے جن فتنوں کا ذکر کیا ان میں سے ایک جہلا کے ہاتھ  میں دین کی ترویج واشاعت بھی ہے، دین کو جو لوگ ریپرسنٹ کریں گے انکو نہ تو دین کی سمجھ بوجھ ہوگی اور نہ ہی عملاََ وہ دین کے شیدائ ہونگے اور ہمارے معاشرے میں چند ایک  علما،مفتی،واعظ کو چھوڑ کر سب کے سب نبیۖ کی اس پیش گوئ پر پورا اترتے ہیں۔ عامر لیاقت جیسا مسخرہ اسکی کھلی مثال ہے۔

رمضان ٹرانسمیشن کے دوران تحائف کی بندربانٹ ہمارے معاشرے کے حوس خوردہ اور لالچی پن کی ایک شاندار اور بہترین تصویر ہے۔ تحائف اور گفٹ لینے کیخاطر ہم اپنا خاندان،حسب نصب،گریس، اخلاقیات سب کو پس پشت ڈال کرمفت خوری کے ایسے دیوانے بنے ہوۓ ہوتے ہیں جیسے ال ای ڈی،ڈیزاۂنر سوٹ،موٹر بائیک،گاڑی ہمارا جنت و جھنم کا ٹکٹ ہے۔ عجیب نفسا نفسی،بےحسی اور گھٹیا پن کی معراج ہیں رمضان ٹرانسمیشنز۔

قصور میڈیا ہاؤسز کا اتنا نہیں بلکے ان سے کئ گنا زیادہ ہمارا اپنا ہے ہم سب اپنی دنیا میں مگن،کاروبار زندگی میں مدہوش،نجی لائف کے مسائل میں اس قدر الجھے ہوۓ کہ ہمیں اپنی ذات، اپنے گھر، اپنا کاروبار اور نظام زندگی کے سوا نہ ہی کسی چیز کا ہوش ہے نہ ہی دلچسپی۔
نیند،مدحوشی،عالم لاعلمی کے اس گڑھے کے دہانے پہنچ چکے ہیں جہاں عین ممکن ہے اگر امت محمدیۖ کے علاوہ کوئ دوسری امت ہوتی تو عزاب الہی کا مزہ چکھ چکے ہوتے(معاذ اللہ) یہی سچ ہے پچھلی تمام امتوں کے عیب مجموعی طور پر ہم نے اپنا لیۓ ہیں۔

ہماری طرف سے دین کی نمائندگی ماڈلز کریں یا کوئ لاعلم اور عمل سے عاری عام انسان، ہماری سردردی نہیں یہ، ہاں البتہ ماڈلز کے ڈیزاۂنر ڈریسزز غور سے ضرور دیکھیے جاتے ہیں تاکہ درزی کو بتاکر سلوا لیں، انعام شوز اچھا ٹائم پاس ہے وقت گزر جاتا ہے روزہ کا احساس کم ہوتا ہے

امت وسط کا زکر قرآن میں البقرہ آیت نمبر 143 میں آیا ہے، امت وسط کا کام دین کو پھیلانا برائ کو روکنا بھی ہے نہ کہ من و عن ہر لغو،خرافات،فضول اور اسلای شعائر کیخلاف ہونے والے ہر فعل کو سر تسلیم خم کرنا ہے۔ لاعلمی،جہالت اور ذلت کی نیند سے جاگو،اپنی آئندہ آنے والی نسل کو بچاؤ، خود کو بھی اس ذلت و بیماری سے نجات دلاؤ۔

”حی علی الفلاح“
نوٹ: کسی کی دل آزاری مقصود نہیں،کچھ غلطی اگر ہوئ تو معزرت
جزاک اللہ خیر

Share
Previous post

Its all about right eating: Prevent eating disorders

Next post

Life Of A Typical Pakistani Girl After She Crosses Her Teenage

No Comment

Leave a reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Huma Mehmood

Huma Mehmood